مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنانی قانونی تنظیم لیگل ایجنڈا، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ شہریوں کو نشانہ بنانے اور طبی امداد کی رسائی روکنے کے ایک منظم طرزِ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 22 اپریل 2026 کو جنوبی لبنان کے گاؤں الطیری میں، جو اسرائیلی قبضے کے زیرِ اثر سکیورٹی زون میں واقع ہے، 42 سالہ صحافی امل خلیل اور 21 سالہ فری لانس فوٹو جرنلسٹ زینب فرج اسرائیلی فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات کی تصدیق کے لیے موجود تھیں۔
تحقیق کے مطابق اسرائیلی فوج نے دوپہر 2 بج کر 25 منٹ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس میں مقامی بلدیاتی حکام سوار تھے۔ بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے امداد طلب کیے جانے کے باوجود ریسکیو ٹیموں کو اسرائیلی فوج کے نام نہاد "ڈی کنفلکشن میکانزم" کی منظوری کے انتظار میں کئی گھنٹے چوکی پر روکے رکھا گیا۔
اس دوران اسرائیلی ڈرونز صحافیوں کے اوپر نچلی پرواز کرتے رہے، جس کے باعث وہ اپنی گاڑی چھوڑ کر ایک قریبی عمارت میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئیں۔ رپورٹ کے مطابق شام 3 بج کر 40 منٹ پر اسرائیلی حملے میں ان کی گاڑی تباہ ہوگئی اور دونوں صحافی شدید زخمی ہو گئیں
تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ زخمی صحافیوں کی مسلسل مدد کی اپیلوں کے باوجود امدادی ٹیموں کو علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بعد ازاں شام 4 بج کر 25 منٹ پر اسرائیلی فوج نے اسی عمارت کو بھی نشانہ بنایا جہاں دونوں صحافی پناہ لیے ہوئے تھیں، جس کے نتیجے میں وہ ملبے تلے دب گئیں۔
آپ کا تبصرہ